ہفتہ 17 جنوری 2026 - 11:28
یوم بعثت و شب معراج کو انسان نے اپنی دنیوی و اُخروی فلاح کی نوید پائی

حوزہ/ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا: 27 رجب، بعثت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انسانیت کو بت پرستی اور ہر قسم کے منفی عقائد سے نجات دلا کر خدا پرستی اور توحید شناسی کی سمت لے جانے کا مبارک دن ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے یوم بعثت رسول اکرم (ص) اور شب معراج کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہا: 27 رجب المرجب، یوم بعثت پیغمبر اکرم (ص) انسانیت کو بت پرستی اور ہر قسم کے منفی عقائد سے نجات دلا کر خدا پرستی اور توحید شناسی کی سمت لے جانے کا مبارک دن ہے۔ اسی دن کائنات کے انسانوں نے اپنی دنیوی و اخروی فلاح کی نوید پائی جب اللہ تعالی نے اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رہتی دنیا تک مبعوث بہ رسالت ہونے کا اعلان فرمایا۔

انہوں نے مزید کہا: واقعہ معراج انسانی بلندی کی بے نظیر مثال ہے، روز افزوں سائنسی علوم کا ارتقاء واقعہ معراج کیلئے مہر تائید و تصدیق ثبت کر رہا ہے۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا: روز مبعث سے قبل انسانیت جس ابتری اور زوال کا شکار تھی، انسانی معاشرہ جس خلفشار میں مبتلا تھا، قدم قدم پر مفاسد نے ڈیرے ڈال رکھے تھے، نفرتوں اور جنگوں نے انسانی جانوں کو بے وقعت کیا ہوا تھا، تکریم خاتون اور حقوق دختر پامال کیے جارہے تھے، ہر شخص نے اپنی پسند اور خواہش پر خدا تراشے ہوئے تھے، اخلاقیات اور صبر و برداشت کا نام و نشان نہیں مل رہا تھا، خالق کے ساتھ مخلوق کا رشتہ قائم ہونا تو دور کی بات مخلوق کو حقیقی خالق کا حقیقی تعارف ہی یاد نہیں رہا تھا۔ ایسے ماحول اور اس زمانے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مبعوث ہونا عالم انسانیت کے لیے ایک عظیم خوشخبری اور دائمی نجات کی نوید ثابت ہوا۔

انہوں نے کہا: 27 رجب کی شب کو ہونے والا واقعہ بھی معراج انسانی بلندی کی بے نظیر مثال ہے۔ روز افزوں سائنسی علوم کا ارتقاء بھی واقعہ معراج کی تائید ہے۔ معروف سائنسدان آئن سٹائن نے اس کو مانا اور اس کی تائید کی اور معروف فلسفی مُلا صدرا نے بھی اس کا ادراک کیا۔ جسمانی و روحانی معراج سے قطع نظر ہم اگر واقعہ معراج کا بنظر غائر جائزہ لیں تو ہمیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اللہ تعالی کے ساتھ قربت و محبت اپنے عروج پر نظر آتی ہے جو اپنے اندر ایسی خاصیت رکھتی ہے جو کسی دوسرے نبی کے حصے میں نہیں آئی۔ شب معراج خالق اور مخلوق کے درمیان سب سے معتبر وسیلہ اور ذریعہ یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے توسط سے بنیادی اصول و ضوابط فراہم کیے گئے۔

علامہ سید ساجد نقوی نے کہا: واقعہ معراج میں چشم زدن میں طویل فاصلوں کو عبور کر کے ایک خاص مقام پر پہنچنا قدرت کی نشانیوں میں سے ایک عظیم نشانی ہے جس کے حقائق سے اللہ اور اس کا رسول (ص) آگاہ ہیں البتہ جس میں انسانوں کے لیے بے شمار اسباق پنہاں ہیں۔

قائد ملت جعفریہ نے مزید کہا: واقعہ معراج جہاں ہمارے لیے مسرتوں اور خوشیوں کا سامان فراہم کرتا ہے وہاں ہمیں زندگی کے آداب بھی سکھاتا ہے۔ معراج کے تحائف میں سے ایک تحفہ نماز ہے جس کی ادائیگی بقول پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مومن کی معراج ہے لہذا ہمیں بھی اپنی معراج کو مدنظر رکھنا چاہیے تاکہ ہمیں بھی قرب و ملاقات خدا کی نعمت حاصل ہو سکے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha